حاضر دماغی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حاضر دماغ کا اسم کیفیت، ذہانت، توجہ، یکسوئی۔ "بے شک . تمھاری حاضر دماغی کا میں قائل ہو گیا۔"      ( ١٩٦١ء، ہالہ، ٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'حاضر' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم 'دماغ' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً سب سے پہلے ١٩١٥ء کو "فلسفہ اجتماع" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حاضر دماغ کا اسم کیفیت، ذہانت، توجہ، یکسوئی۔ "بے شک . تمھاری حاضر دماغی کا میں قائل ہو گیا۔"      ( ١٩٦١ء، ہالہ، ٢٦ )

جنس: مؤنث